سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ تھے
اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر مرا نہ تھا
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سمندر کے کنارے ایک بستی رو رہی ہے
میں اتنی دور ہوں اور مجھ کو وحشت ہو رہی ہے
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
کسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں
مگر لہجوں میں ویرانی بہت ہے
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
افتخار عارف
ٹیگز:
| حجرت |
| 2 لائنیں شیری |
سپاہ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر
کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا
افتخار عارف
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

