EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اپنا باطن خوب ہے ظاہر سے بھی اے جان جاں
آنکھ کے لڑنے سے پہلے جی لڑا بیٹھے ہیں ہم

حاتم علی مہر




بے قراری روز و شب کرنے لگا
مہرؔ اب تو دل غضب کرنے لگا

حاتم علی مہر




بوسے لیتے ہیں چشم جاناں کے
ہم ہرن کا شکار کرتے ہیں

حاتم علی مہر




در بہ در مارا پھرا میں جستجوئے یار میں
زاہد کعبہ ہوا رہبان بت خانہ ہوا

حاتم علی مہر




دیوانہ ہوں پر کام میں ہوشیار ہوں اپنے
یوسف کا خیال آیا جو زنداں نظر آیا

حاتم علی مہر




دونوں اسی کے بندے ہیں یکتا ہے وہ کریم
اے چشم تر ہے تو بھی بڑی آشنا پرست

حاتم علی مہر




فصل گل آئی تو کیا بے سر و ساماں ہیں ہم
شیشہ و جام نہیں ساقئ گل فام نہیں

حاتم علی مہر