ان کو یاں وعدے پہ آ لینے دے اے ابر بہار
جس قدر چاہنا پھر بعد میں برسا کرنا
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اس نا خدا کے ظلم و ستم ہائے کیا کروں
کشتی مری ڈبوئی ہے ساحل کے آس پاس
حسرتؔ موہانی
واقف ہیں خوب آپ کے طرز جفا سے ہم
اظہار التفات کی زحمت نہ کیجیے
حسرتؔ موہانی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں
آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں
حسرتؔ موہانی
بیٹھتے جب ہیں کھلونے وہ بنانے کے لیے
ان سے بن جاتے ہیں ہتھیار یہ قصہ کیا ہے
ہستی مل ہستی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دھیرے دھیرے ہو گئی یہ اتنی بد رنگ
جیون کی پوشاک کا بھولے اصلی رنگ
ہستی مل ہستی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل کی حالت پوچھنے والو
دیکھو کوئی پھول مسل کے
ہستی مل ہستی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |

