EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

گل بانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھا
اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا

حاتم علی مہر




گلزار میں پھر کوئی گل تازہ کھلا کیا
گھبرائی سی پھرتی ہے تو اے باد صبا کیا

حاتم علی مہر




ہم بھی باتیں بنایا کرتے ہیں
شعر کہنا مگر نہیں آتا

حاتم علی مہر




ہم مہرؔ محبت سے بہت تنگ ہیں اب تو
روکیں گے طبیعت کو جو رک جائے تو اچھا

حاتم علی مہر




جنت کی نعمتوں کا مزا واعظوں کو ہو
ہم تو ہیں محو لذت بوس و کنار میں

حاتم علی مہر




جواں رکھتی ہے مے دیکھے عجب تاثیر پانی میں
پلاتا ہے مرا ساقی مجھے اکسیر پانی میں

حاتم علی مہر




کافر عشق ہوں مشتاق شہادت بھی ہوں
کاش مل جائے تری تیغ کا زنار کہیں

حاتم علی مہر