زلیخا بے خرد آوارہ لیلیٰ بد مزا شیریں
سبھی مجبور ہیں دل سے محبت آ ہی جاتی ہے
غلام مولیٰ قلق
آیا ہے اک راہ نما کے استقبال کو اک بچہ
پیٹ ہے خالی آنکھ میں حسرت ہاتھوں میں گلدستہ ہے
غلام محمد قاصر
اب اسی آگ میں جلتے ہیں جسے
اپنے دامن سے ہوا دی ہم نے
غلام محمد قاصر
بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو
غلام محمد قاصر
بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا
وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا
غلام محمد قاصر
بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا
مگر وہ شہر کے رستے سے آیا تھا
غلام محمد قاصر
دن اندھیروں کی طلب میں گزرا
رات کو شمع جلا دی ہم نے
غلام محمد قاصر

