پہلے رکھ لے تو اپنے دل پر ہاتھ
پھر مرے خط کو پڑھ لکھا کیا ہے
غلام مولیٰ قلق
رحم کر مستوں پہ کب تک طاق پر رکھے گا تو
ساغر مے ساقیا زاہد کا ایماں ہو گیا
غلام مولیٰ قلق
شہر ان کے واسطے ہے جو رہتے ہیں تجھ سے دور
گھر ان کا پھر کہاں جو ترے دل میں گھر کریں
غلام مولیٰ قلق
تیرا دیوانہ تو وحشت کی بھی حد سے نکلا
کہ بیاباں کو بھی چاہے ہے بیاباں ہونا
غلام مولیٰ قلق
تری نوید میں ہر داستاں کو سنتے ہیں
تری امید میں ہر رہ گزر کو دیکھتے ہیں
غلام مولیٰ قلق
تجھ سے اے زندگی گھبرا ہی چلے تھے ہم تو
پر تشفی ہے کہ اک دشمن جاں رکھتے ہیں
غلام مولیٰ قلق
تو دیکھ تو ادھر کہ جو دیکھا نہ جائے پھر
تو گفتگو کرے تو کبھی گفتگو نہ ہو
غلام مولیٰ قلق

