EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

پہلے رکھ لے تو اپنے دل پر ہاتھ
پھر مرے خط کو پڑھ لکھا کیا ہے

غلام مولیٰ قلق




رحم کر مستوں پہ کب تک طاق پر رکھے گا تو
ساغر مے ساقیا زاہد کا ایماں ہو گیا

غلام مولیٰ قلق




شہر ان کے واسطے ہے جو رہتے ہیں تجھ سے دور
گھر ان کا پھر کہاں جو ترے دل میں گھر کریں

غلام مولیٰ قلق




تیرا دیوانہ تو وحشت کی بھی حد سے نکلا
کہ بیاباں کو بھی چاہے ہے بیاباں ہونا

غلام مولیٰ قلق




تری نوید میں ہر داستاں کو سنتے ہیں
تری امید میں ہر رہ گزر کو دیکھتے ہیں

غلام مولیٰ قلق




تجھ سے اے زندگی گھبرا ہی چلے تھے ہم تو
پر تشفی ہے کہ اک دشمن جاں رکھتے ہیں

غلام مولیٰ قلق




تو دیکھ تو ادھر کہ جو دیکھا نہ جائے پھر
تو گفتگو کرے تو کبھی گفتگو نہ ہو

غلام مولیٰ قلق