تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی
تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی
غلام مولیٰ قلق
اس سے نہ ملیے جس سے ملے دل تمام عمر
سوجھی ہمیں بھی ہجر میں آخر کو دور کی
غلام مولیٰ قلق
واعظ نے میکدے کو جو دیکھا تو جل گیا
پھیلا گیا چراند شراب طہور کی
غلام مولیٰ قلق
واعظ یہ مے کدہ ہے نہ مسجد کہ اس جگہ
ذکر حلال پر بھی ہے فتویٰ حرام کا
غلام مولیٰ قلق
وہ سنگ دل انگشت بدنداں نظر آوے
ایسا کوئی صدمہ مری جاں پر نہیں ہوتا
غلام مولیٰ قلق
وہ ذکر تھا تمہارا جو انتہا سے گزرا
یہ قصہ ہے ہمارا جو ناتمام نکلا
غلام مولیٰ قلق
زہے قسمت کہ اس کے قیدیوں میں آ گئے ہم بھی
ولے شور سلاسل میں ہے اک کھٹکا رہائی کا
غلام مولیٰ قلق

