خدا سے ڈرتے تو خوف خدا نہ کرتے ہم
کہ یاد بت سے حرم میں بکا نہ کرتے ہم
غلام مولیٰ قلق
کدھر قفس تھا کہاں ہم تھے کس طرف یہ قید
کچھ اتفاق ہے صیاد آب و دانے کا
غلام مولیٰ قلق
کس لیے دعویٔ زلیخائی
غیر یوسف نہیں غلام نہیں
غلام مولیٰ قلق
کفر اور اسلام میں دیکھا تو نازک فرق تھا
دیر میں جو پاک تھا کعبے میں وہ ناپاک تھا
غلام مولیٰ قلق
کیا خانہ خرابوں کا لگے تیرے ٹھکانا
اس شہر میں رہتے ہیں جہاں گھر نہیں ہوتا
غلام مولیٰ قلق
کیوں کر نہ آستیں میں چھپا کر پڑھیں نماز
حق تو ہے یہ عزیز ہیں بت ہی خدا کے بعد
غلام مولیٰ قلق
میں راز داں ہوں یہ کہ جہاں تھا وہاں نہ تھا
تو بد گماں ہے وہ کہ جہاں ہے وہاں نہیں
غلام مولیٰ قلق

