EN हिंदी
ساغر صدیقی شیاری | شیح شیری

ساغر صدیقی شیر

41 شیر

مر گئے جن کے چاہنے والے
ان حسینوں کی زندگی کیا ہے

ساغر صدیقی




میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور
میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا

ساغر صدیقی




لوگ کہتے ہیں رات بیت چکی
مجھ کو سمجھاؤ! میں شرابی ہوں

ساغر صدیقی




خاک اڑتی ہے تیری گلیوں میں
زندگی کا وقار دیکھا ہے

ساغر صدیقی




کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں

ساغر صدیقی




کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا

ساغر صدیقی




جو چمن کی حیات کو ڈس لے
اس کلی کو ببول کہتا ہوں

ساغر صدیقی




جس دور میں لٹ جائے غریبوں کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی




جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی