EN हिंदी
راجیش ریڈی شیاری | شیح شیری

راجیش ریڈی شیر

36 شیر

کچھ پرندوں کو تو بس دو چار دانے چاہئیں
کچھ کو لیکن آسمانوں کے خزانے چاہئیں

راجیش ریڈی




سب لوگ اس سے پہلے کہ دیوتا سمجھتے
ہم نے ذرا سا خود کو انسان کر لیا ہے

راجیش ریڈی




سفر میں اب کے عجب تجربہ نکل آیا
بھٹک گیا تو نیا راستہ نکل آیا

راجیش ریڈی




شام کو جس وقت خالی ہاتھ گھر جاتا ہوں میں
مسکرا دیتے ہیں بچے اور مر جاتا ہوں میں

راجیش ریڈی




سوچ لو کل کہیں آنسو نہ بہانے پڑ جائیں
خون کا کیا ہے رگوں میں وہ یونہی کھولتا ہے

راجیش ریڈی




وہ دل سے کم زباں ہی سے زیادہ بات کرتا تھا
جبھی اس کے یہاں گہرائی کم وسعت زیادہ تھی

راجیش ریڈی




یا خدا اب کے یہ کس رنگ میں آئی ہے بہار
زرد ہی زرد ہے پیڑوں پہ ہرا کچھ بھی نہیں

راجیش ریڈی




یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے
کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے

راجیش ریڈی




یہ جو زندگی کی کتاب ہے یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
کہیں اک حسین سا خواب ہے کہیں جان لیوا عذاب ہے

راجیش ریڈی