حسینوں پر نہیں مرتا میں اس حسرت میں مرتا ہوں
کہ ایسے ایسے لوگوں کے لیے ظالم قضا کیوں ہے
مضطر خیرآبادی
حسرتوں کو کوئی کہاں رکھے
دل کے اندر قیام ہے تیرا
مضطر خیرآبادی
ہستئ غیر کا سجدہ ہے محبت میں گناہ
آپ ہی اپنی پرستش کے سزا وار ہیں ہم
مضطر خیرآبادی
ہزاروں حسن والے اس زمیں میں دفن ہیں مضطرؔ
قیامت ہوگی جب یہ سب کے سب مدفن سے نکلیں گے
مضطر خیرآبادی
ایمان ساتھ جائے گا کیوں کر خدا کے گھر
کعبے کا راستہ تو کلیسا سے مل گیا
مضطر خیرآبادی
عیسیٰ کبھی نہ جاتے لیکن تمہارے غم میں
وہ بھی تو مر رہے ہیں جو آسمان پر ہیں
مضطر خیرآبادی
عیسیٰ سے دوائے مرض عشق نہ ہوگی
ہاں ان کو کوئی ڈھونڈ کے لے آئے کہیں سے
مضطر خیرآبادی
اک ہم ہیں کہ ہم نے تمہیں معشوق بنایا
اک تم ہو کہ تم نے ہمیں رکھا نہ کہیں کا
مضطر خیرآبادی
اک ہم کہ ہم کو صبح سے ہے شام کی خوشی
اک تم کہ تم کو شام کا دھڑکا سحر سے ہے
مضطر خیرآبادی

