EN हिंदी
مضطر خیرآبادی شیاری | شیح شیری

مضطر خیرآبادی شیر

199 شیر

حسینوں پر نہیں مرتا میں اس حسرت میں مرتا ہوں
کہ ایسے ایسے لوگوں کے لیے ظالم قضا کیوں ہے

مضطر خیرآبادی




حسرتوں کو کوئی کہاں رکھے
دل کے اندر قیام ہے تیرا

مضطر خیرآبادی




ہستئ غیر کا سجدہ ہے محبت میں گناہ
آپ ہی اپنی پرستش کے سزا وار ہیں ہم

مضطر خیرآبادی




ہزاروں حسن والے اس زمیں میں دفن ہیں مضطرؔ
قیامت ہوگی جب یہ سب کے سب مدفن سے نکلیں گے

مضطر خیرآبادی




ایمان ساتھ جائے گا کیوں کر خدا کے گھر
کعبے کا راستہ تو کلیسا سے مل گیا

مضطر خیرآبادی




عیسیٰ کبھی نہ جاتے لیکن تمہارے غم میں
وہ بھی تو مر رہے ہیں جو آسمان پر ہیں

مضطر خیرآبادی




عیسیٰ سے دوائے مرض عشق نہ ہوگی
ہاں ان کو کوئی ڈھونڈ کے لے آئے کہیں سے

مضطر خیرآبادی




اک ہم ہیں کہ ہم نے تمہیں معشوق بنایا
اک تم ہو کہ تم نے ہمیں رکھا نہ کہیں کا

مضطر خیرآبادی




اک ہم کہ ہم کو صبح سے ہے شام کی خوشی
اک تم کہ تم کو شام کا دھڑکا سحر سے ہے

مضطر خیرآبادی