EN हिंदी
مضطر خیرآبادی شیاری | شیح شیری

مضطر خیرآبادی شیر

199 شیر

جب میں نے کہا دل مرا پامال کیا کیوں
کس ناز سے بولے کہ محبت کی سزا تھی

مضطر خیرآبادی




جب ان کی پتیاں بکھریں تو سمجھے مصلحت اس کی
یہ گل پہلے سمجھتے تھے ہوا بے کار چلتی ہے

مضطر خیرآبادی




جگانے چٹکیاں لینے ستانے کون آتا ہے
یہ چھپ کر خواب میں اللہ جانے کون آتا ہے

مضطر خیرآبادی




جلے گا دل تمہیں بزم عدو میں دیکھ کر میرا
دھواں بن بن کے ارماں محفل دشمن سے نکلیں گے

مضطر خیرآبادی




جلوۂ رخسار ساقی ساغر و مینا میں ہے
چاند اوپر ہے مگر ڈوبا ہوا دریا میں ہے

مضطر خیرآبادی




جناب خضر راہ عشق میں لڑنے سے کیا حاصل
میں اپنا راستہ لے لوں تم اپنا راستہ لے لو

مضطر خیرآبادی




جتنے بت ہیں میں سب پہ مرتا ہوں
میرا ایمان ایک ہو تو کہوں

مضطر خیرآبادی




جیے جاتے ہیں پستی میں ترے سارے جہاں والے
کبھی نیچے بھی نظریں ڈال اونچے آسماں والے

مضطر خیرآبادی




جو پوچھا دل ہمارا کیوں لیا تو ناز سے بولے
کہ تھوڑی بے قراری اس دل مضطرؔ سے لینا ہے

مضطر خیرآبادی