باقی کی محبت میں دل صاف ہوا اتنا
جب سر کو جھکاتا ہوں شیشہ نظر آتا ہے
مضطر خیرآبادی
بازو پہ رکھ کے سر جو وہ کل رات سو گیا
آرام یہ ملا کہ مرا ہات سو گیا
مضطر خیرآبادی
بچھڑنا بھی تمہارا جیتے جی کی موت ہے گویا
اسے کیا خاک لطف زندگی جس سے جدا تم ہو
مضطر خیرآبادی
برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں
بھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے
مضطر خیرآبادی
بت کدہ میں تو تجھے دیکھ لیا کرتا تھا
خاص کعبے میں تو صورت بھی دکھائی نہ گئی
مضطر خیرآبادی
بت خانے میں کیا یاد الٰہی نہیں ممکن
ناقوس سے کیا کار اذاں ہو نہیں سکتا
مضطر خیرآبادی
بتوں میں نور ذات کبریا معلوم ہوتا ہے
مجھے کچھ دن سے ہر پتھر خدا معلوم ہوتا ہے
مضطر خیرآبادی
چاہت کی تمنا سے کوئی آنچ نہ آئی
یہ آگ مرے دل میں بڑے ڈھب سے لگی ہے
مضطر خیرآبادی
چوکی نظر جو زاہد خانہ خراب کی
توبہ اڑا کے لے گئی بوتل شراب کی
مضطر خیرآبادی

