ایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیں
ایک وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں
مضطر خیرآبادی
فنا کے بعد اس دنیا میں کچھ باقی نہیں رہتا
فقط اک نام اچھا یا برا مشہور رہتا ہے
مضطر خیرآبادی
گئے ہم دیر سے کعبے مگر یہ کہہ کے پھر آئے
کہ تیری شکل کچھ اچھی وہیں معلوم ہوتی ہے
مضطر خیرآبادی
حال اس نے ہمارا پوچھا ہے
پوچھنا اب ہمارے حال کا کیا
مضطر خیرآبادی
حال زاہد جو مئے ناب کا پوچھے تو کہوں
ہے یہ وہ چیز جو کافر کو مسلمان کرے
مضطر خیرآبادی
حال دل اغیار سے کہنا پڑا
گل کا قصہ خار سے کہنا پڑا
مضطر خیرآبادی
ہم سے اچھا نہیں ملنے کا اگر تم چاہو
تم سے اچھے ابھی ملتے ہیں اگر ہم چاہیں
مضطر خیرآبادی
ہمارے ایک دل کو ان کی دو زلفوں نے گھیرا ہے
یہ کہتی ہے کہ میرا ہے وہ کہتی ہے کہ میرا ہے
مضطر خیرآبادی
ہمارے میکدے میں خیر سے ہر چیز رہتی ہے
مگر اک تیس دن کے واسطے روزے نہیں رہتے
مضطر خیرآبادی

