EN हिंदी
مضطر خیرآبادی شیاری | شیح شیری

مضطر خیرآبادی شیر

199 شیر

اک صدمۂ محبت اک صدمۂ جدائی
گنتی کے دو ہیں لیکن لاکھوں کی جان پر ہیں

مضطر خیرآبادی




اکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گا
وہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے

مضطر خیرآبادی




علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

مضطر خیرآبادی




ان بتوں کی ہی محبت سے خدا ملتا ہے
کافروں کو جو نہ چاہے وہ مسلمان نہیں

مضطر خیرآبادی




اس سے پہلے میں کبھی آباد گھر بستی میں تھا
آج مضطرؔ ایک اجڑا جھونپڑا جنگل میں ہوں

مضطر خیرآبادی




عشق کا کانٹا ہمارے دل میں یہ کہہ کر چبھا
اب نکلواؤ تو تم ان سے نکلوانا مجھے

مضطر خیرآبادی




اسی کو پی کے ہوتی ہے شفا بیمار الفت کو
دوا قاتل ترے تلوار کے پانی کو کہتے ہیں

مضطر خیرآبادی




جا کے اب نار جہنم کی خبر لے زاہد
ندیاں بہہ گئیں اشکوں کی گنہ گاروں میں

مضطر خیرآبادی




جان دینا نہیں کسے منظور
تو کسی کام سے تو آئے گا

مضطر خیرآبادی