جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے
تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے
مضطر خیرآبادی
کعبے میں ہم نے جا کے کچھ اور حال دیکھا
جب بت کدہ میں پہنچے صورت ہی دوسری تھی
مضطر خیرآبادی
کہہ دو ساقی سے کہ پیاسا نہ نکالے مجھ کو
عمر بھر روئیں گے مٹی کے پیالے مجھ کو
مضطر خیرآبادی
کہیں جو بلبل نے دیکھ پایا تو میری اس کی نہیں بنے گی
چمن میں جانے کو روز جاؤ مگر گلوں سے ہنسی نہ کرنا
مضطر خیرآبادی
کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا
اس لیے پھر آئے کعبے سے کہ مے خانہ نہ تھا
مضطر خیرآبادی
خال و عارض کا تصور ہے ہمارے دل میں
ایک ہندو بھی ہے کعبے میں مسلمان کے ساتھ
مضطر خیرآبادی
خط پھاڑ کے پھینکا ہے تو لکھا بھی مٹا دو
کاغذ پہ اترتا ہے بہت تاؤ تمہارا
مضطر خیرآبادی
خدمت گشت بگولوں کو تو دی صحرا میں
میں بھی برباد ہوں مجھ کو بھی کوئی کام بتا
مضطر خیرآبادی
خضر بھی آپ پر عاشق ہوئے ہیں
قضا آئی حیات جاوداں کی
مضطر خیرآبادی

