EN हिंदी
میر حسن شیاری | شیح شیری

میر حسن شیر

107 شیر

مت بخت خفتہ پر مرے ہنس اے رقیب تو
ہوگا ترے نصیب بھی یہ خواب دیکھنا

میر حسن




مر گیا ہوتا نہ ہوتی قہر میں شامل جو مہر
صحت دل اس دوائے معتدل نے کی غرض

میر حسن




میں تو اس ڈر سے کچھ نہیں کہتا
تو مبادا اداس ہو جاوے

میر حسن




میں نے پایا نہ اسے شہر میں نہ صحرا میں
تو نے لے جا کے مرے دل کو کہاں چھوڑ دیا

میر حسن




میں نے جو کہا مجھ پہ کیا کیا نہ ستم گزرا
بولا کہ ابے تیرا روتے ہی جنم گزرا

میر حسن




کیا جانئے کہ باہم کیوں ہم میں اور اس میں
موقوف ہو گیا ہے اب وہ تپاک ہونا

میر حسن




کوچۂ یار ہے اور دیر ہے اور کعبہ ہے
دیکھیے عشق ہمیں آہ کدھر لاوے گا

میر حسن




کس وقت میں بسا تھا الٰہی یہ ملک دل
صدمے ہی پڑتے رہتے ہیں نت اس دیار پر

میر حسن




کیا شکوہ کریں کنج قفس کا دل مضطر
ہم نے تو چمن میں بھی ٹک آرام نہ پایا

میر حسن