میں حشر کو کیا روؤں کہ اٹھ جانے سے تیرے
برپا ہوئی اک مجھ پہ قیامت تو یہیں اور
میر حسن
میں نے جو کہا مجھ پہ کیا کیا نہ ستم گزرا
بولا کہ ابے تیرا روتے ہی جنم گزرا
میر حسن
میں نے پایا نہ اسے شہر میں نہ صحرا میں
تو نے لے جا کے مرے دل کو کہاں چھوڑ دیا
میر حسن
میں تو اس ڈر سے کچھ نہیں کہتا
تو مبادا اداس ہو جاوے
میر حسن
مر گیا ہوتا نہ ہوتی قہر میں شامل جو مہر
صحت دل اس دوائے معتدل نے کی غرض
میر حسن
مت بخت خفتہ پر مرے ہنس اے رقیب تو
ہوگا ترے نصیب بھی یہ خواب دیکھنا
میر حسن
مت پونچھ ابروئے عرق آلود ہاتھ سے
لازم ہے احتیاط کہ ہے آب دار تیغ
میر حسن
نہ غرض مجھ کو ہے کافر سے نہ دیں دار سے کام
روز و شب ہے مجھے اس کاکل خم دار سے کام
میر حسن
مو سے سپید نے نمک اس میں ملا دیا
کیفیت اب رہی نہیں جام شراب میں
میر حسن

