EN हिंदी
مخدومؔ محی الدین شیاری | شیح شیری

مخدومؔ محی الدین شیر

23 شیر

رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر

مخدومؔ محی الدین




عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے
دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کٹے

مخدومؔ محی الدین




کیسے ہیں خانقاہ میں ارباب خانقاہ
کس حال میں ہے پیر مغاں دیکھتے چلیں

مخدومؔ محی الدین




کوہ غم اور گراں اور گراں اور گراں
غم زدو تیشے کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے

مخدومؔ محی الدین




منزلیں عشق کی آساں ہوئیں چلتے چلتے
اور چمکا ترا نقش کف پا آخر شب

مخدومؔ محی الدین




پھر چھڑی رات بات پھولوں کی
رات ہے یا برات پھولوں کی

مخدومؔ محی الدین




تمہارے جسم کا سورج جہاں جہاں ٹوٹا
وہیں وہیں مری زنجیر جاں بھی ٹوٹی ہے

مخدومؔ محی الدین




یہ تمنا ہے کہ اڑتی ہوئی منزل کا غبار
صبح کے پردے میں یاد آ گئی شام آہستہ

مخدومؔ محی الدین




وصل ہے ان کی ادا ہجر ہے ان کا انداز
کون سا رنگ بھروں عشق کے افسانوں میں

مخدومؔ محی الدین