تری بزم طرب میں آ گیا ہوں
مگر دل کو سکوں حاصل نہیں ہے
مہیش چندر نقش
پھر کسی کی بزم کا آیا خیال
پھر دھواں اٹھا دل ناکام سے
مہیش چندر نقش
پھول روتے ہیں خار ہنستے ہیں
دیکھ! گلشن کا یہ نظارا بھی
مہیش چندر نقش
شام ہجراں بھی اک قیامت تھی
آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا
مہیش چندر نقش
تسکین دے سکیں گے نہ جام و سبو مجھے
بے چین کر رہی ہے تری آرزو مجھے
مہیش چندر نقش
تصویر زندگی میں نیا رنگ بھر گئے
وہ حادثے جو دل پہ ہمارے گزر گئے
مہیش چندر نقش
یہ زور برق و باد یہ طوفان الاماں
محروم ہو نہ جائیں کہیں آشیاں سے ہم
مہیش چندر نقش
یوں روٹھ کے جانے پہ میں خاموش ہوں لیکن
یہ بات مرے دل کو گوارا تو نہیں ہے
مہیش چندر نقش
یوں گزرتے ہیں ہجر کے لمحے
جیسے وہ بات کرتے جاتے ہیں
مہیش چندر نقش

