تمام درد کے رشتوں سے واسطہ نہ رہے
حصار جسم سے نکلوں تو بے صدا ہو جاؤں
خلیل تنویر
شب کی دیوار گری تو دیکھا
نوک نشتر ہے سحر کچھ بھی نہیں
خلیل تنویر
رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے
حق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے
خلیل تنویر
رواں تھی کوئی طلب سی لہو کے دریا میں
کہ موج موج بھنور عمر کا سفینہ تھا
خلیل تنویر
پرند اونچی اڑانوں کی دھن میں رہتا ہے
مگر زمیں کی حدوں میں بسر بھی کرتا ہے
خلیل تنویر
پرند شاخ پہ تنہا اداس بیٹھا ہے
اڑان بھول گیا مدتوں کی بندش میں
خلیل تنویر
میں کیا ہوں کون ہوں کیا چیز مجھ میں مضمر ہے
کئی حجاب اٹھائے مگر حجاب میں ہوں
خلیل تنویر
اب کے سفر میں درد کے پہلو عجیب ہیں
جو لوگ ہم خیال نہ تھے ہم سفر ہوئے
خلیل تنویر
کسے خیال تھا مٹتی ہوئی عبارت کا
مہک رہا تھا چمن در چمن سماعت کا
خلیل تنویر

