EN हिंदी
خلیل مامون شیاری | شیح شیری

خلیل مامون شیر

27 شیر

سب لوگ ہمیں ایک نظر آتے ہیں
اندازہ نہیں ہوتا ہے اب چہروں کا

خلیل مامون




مصروف غم ہیں کون و مکاں جاگتے رہو
خوابوں سے اٹھ رہا ہے دھواں جاگتے رہو

خلیل مامون




میری طرح سے یہ بھی ستایا ہوا ہے کیا
کیوں اتنے داغ دکھتے ہیں مہتاب میں ابھی

خلیل مامون




مرا وجود و عدم بھی اک حادثہ نیا ہے
میں دفن ہوں کہیں کہیں سے نکل رہا ہوں

خلیل مامون




مجھے پہنچنا ہے بس اپنے آپ کی حد تک
میں اپنی ذات کو منزل بنا کے چلتا ہوں

خلیل مامون




مجھے تو عشق ہے پھولوں میں صرف خوشبو سے
بلا رہی ہے کسی لالہ کی مہک مجھ کو

خلیل مامون




رفتار روز و شب سے کہاں تک نبھاؤں گا
تھک ہار کر میں گھر کی طرف لوٹ جاؤں گا

خلیل مامون




تم نہیں آؤ گے خبر ہے ہمیں
پھر بھی ہم انتظار کر لیں گے

خلیل مامون




تم ہو کھوئے ہوئے زمانے میں
میں خود اپنی ہی ذات میں گم ہوں

خلیل مامون