EN हिंदी
خلیل مامون شیاری | شیح شیری

خلیل مامون شیر

27 شیر

مجھے تو عشق ہے پھولوں میں صرف خوشبو سے
بلا رہی ہے کسی لالہ کی مہک مجھ کو

خلیل مامون




مجھے پہنچنا ہے بس اپنے آپ کی حد تک
میں اپنی ذات کو منزل بنا کے چلتا ہوں

خلیل مامون




مرا وجود و عدم بھی اک حادثہ نیا ہے
میں دفن ہوں کہیں کہیں سے نکل رہا ہوں

خلیل مامون




میری طرح سے یہ بھی ستایا ہوا ہے کیا
کیوں اتنے داغ دکھتے ہیں مہتاب میں ابھی

خلیل مامون




مصروف غم ہیں کون و مکاں جاگتے رہو
خوابوں سے اٹھ رہا ہے دھواں جاگتے رہو

خلیل مامون




ایسا ہو زندگی میں کوئی خواب ہی نہ ہو
اندھیاری رات میں کوئی مہتاب ہی نہ ہو

خلیل مامون




لفظوں کا خزانہ بھی کبھی کام نہ آئے
بیٹھے رہیں لکھنے کو ترا نام نہ آئے

خلیل مامون




جو نور بھرتے تھے ظلمات شب کے صحرا میں
وہ چاند تارے فلک سے اتر گئے شاید

خلیل مامون




جواب ڈھونڈ کے سارے جہاں سے جب لوٹے
ہمیں تو کر گیا یک لخت لا جواب کوئی

خلیل مامون