مسکرائے وہ حال دل سن کر
اور گویا جواب تھا ہی نہیں
فانی بدایونی
نا مہربانیوں کا گلا تم سے کیا کریں
ہم بھی کچھ اپنے حال پہ اب مہرباں نہیں
فانی بدایونی
ناامیدی موت سے کہتی ہے اپنا کام کر
آس کہتی ہے ٹھہر خط کا جواب آنے کو ہے
فانی بدایونی
نہیں ضرور کہ مر جائیں جاں نثار تیرے
یہی ہے موت کہ جینا حرام ہو جائے
فانی بدایونی
پھر کسی کی یاد نے تڑپا دیا
پھر کلیجہ تھام کر ہم رہ گئے
فانی بدایونی
رونے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں فانیؔ
یہ اس کی گلی ہے تیرا غم خانہ نہیں ہے
فانی بدایونی
روز ہے درد محبت کا نرالا انداز
روز دل میں تری تصویر بدل جاتی ہے
فانی بدایونی
روز جزا گلہ تو کیا شکر ستم ہی بن پڑا
ہائے کہ دل کے درد نے درد کو دل بنا دیا
فانی بدایونی
روح ارباب محبت کی لرز جاتی ہے
تو پشیمان نہ ہو اپنی جفا یاد نہ کر
فانی بدایونی

