سمیٹ لو مجھے اپنی صدا کے حلقوں میں
میں خامشی کی ہوا سے بکھرنے والا ہوں
آزاد گلاٹی
سمیٹ لاتا ہوں موتی تمہاری یادوں کے
جو خلوتوں کے سمندر میں ڈوبتا ہوں میں
آزاد گلاٹی
سال نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں
کچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر
آزاد گلاٹی
روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا
کچھ دیئے ایسے جلے ہر سو اندھیرا ہو گیا
آزاد گلاٹی
آج آئینے میں خود کو دیکھ کر یاد آ گیا
ایک مدت ہو گئی جس شخص کو دیکھے ہوئے
آزاد گلاٹی
میں ساتھ لے کے چلوں گا تمہیں اے ہم سفرو
میں تم سے آگے ہوں لیکن ٹھہرنے والا ہوں
آزاد گلاٹی
کچھ ایسے پھول بھی گزرے ہیں میری نظروں سے
جو کھل کے بھی نہ سمجھ پائے زندگی کیا ہے
آزاد گلاٹی
کسے ملتی نجات آزادؔ ہستی کے مسائل سے
کہ ہر کوئی مقید آب و گل کے سلسلوں کا تھا
آزاد گلاٹی
کس سے پوچھیں رات بھر اپنے بھٹکنے کا سبب
سب یہاں ملتے ہیں جیسے نیند میں جاگے ہوئے
آزاد گلاٹی

