سچ ہے عمر بھر کس کا کون ساتھ دیتا ہے
غم بھی ہو گیا رخصت دل کو چھوڑ کر تنہا
انور شعور
محبت رہی چار دن زندگی میں
رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
انور شعور
مری حیات ہے بس رات کے اندھیرے تک
مجھے ہوا سے بچائے رکھو سویرے تک
انور شعور
میرے گھر کے تمام دروازے
تم سے کرتے ہیں پیار آ جاؤ
انور شعور
مرنے والا خود روٹھا تھا
یا ناراض حیات ہوئی تھی
انور شعور
لوگ صدموں سے مر نہیں جاتے
سامنے کی مثال ہے میری
انور شعور
لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی گرمی ہو سردی ہو
نہیں رکتی کبھی برسات جب سے تم نہیں آئے
انور شعور
کوئی زنجیر نہیں تار نظر سے مضبوط
ہم نے اس چاند پہ ڈالی ہے کمند آنکھوں سے
انور شعور
کیا بادلوں میں سفر زندگی بھر
زمیں پر بنایا نہ گھر زندگی بھر
انور شعور

