EN हिंदी
انور شعور شیاری | شیح شیری

انور شعور شیر

53 شیر

مری حیات ہے بس رات کے اندھیرے تک
مجھے ہوا سے بچائے رکھو سویرے تک

انور شعور




سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں
نہ آیا ہمیں یہ ہنر زندگی بھر

انور شعور




سامنے آ کر وہ کیا رہنے لگا
گھر کا دروازہ کھلا رہنے لگا

انور شعور




نظام زر میں کسی اور کام کا کیا ہو
بس آدمی ہے کمانے کا اور کھانے کا

انور شعور




مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ
نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے

انور شعور




مسکرا کر دیکھ لیتے ہو مجھے
اس طرح کیا حق ادا ہو جائے گا

انور شعور




محبت رہی چار دن زندگی میں
رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

انور شعور




کوئی زنجیر نہیں تار نظر سے مضبوط
ہم نے اس چاند پہ ڈالی ہے کمند آنکھوں سے

انور شعور




لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی گرمی ہو سردی ہو
نہیں رکتی کبھی برسات جب سے تم نہیں آئے

انور شعور