EN हिंदी
ماجد الباقری شیاری | شیح شیری

ماجد الباقری شیر

9 شیر

اندھے موڑ کو جو بھی کاٹے آہستہ گزرے
سائکلیں ٹکرا جاتی ہیں اکثر موٹر سے

ماجد الباقری




بات کرنا ہے کرو سامنے اتراؤ نہیں
جو نہیں جانتے اس بات کو سمجھاؤ نہیں

ماجد الباقری




بیس برس سے اک تارے پر من کی جوت جگاتا ہوں
دیوالی کی رات کو تو بھی کوئی دیا جلایا کر

ماجد الباقری




ہونٹ کی سرخی جھانک اٹھتی ہے شیشے کے پیمانوں سے
مٹی کے برتن میں پانی پی کر پیاس بجھایا کر

ماجد الباقری




انسان میں کیا بھرا ہوا ہے
ہونٹوں سے دماغ تک سلے ہیں

ماجد الباقری




لوہے اور پتھر کی ساری تصویریں مٹ جائیں گی
کاغذ کے پردے پر ہم نے سب کے روپ جمائے ہیں

ماجد الباقری




مجھی سے پوچھ رہا تھا مرا پتا کوئی
بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی

ماجد الباقری




قریب دیکھ کے اس کو یہ بات کس سے کہوں
خیال دل میں جو آیا گناہ جیسا تھا

ماجد الباقری




سوکھے پتے سب اکٹھے ہو گئے ہیں
راستے میں ایک دیوار آ گئی ہے

ماجد الباقری