EN हिंदी
اندھے موڑ کو جو بھی کاٹے آہستہ گزرے | شیح شیری
aandhe moD ko jo bhi kaTe aahista guzre

غزل

اندھے موڑ کو جو بھی کاٹے آہستہ گزرے

ماجد الباقری

;

اندھے موڑ کو جو بھی کاٹے آہستہ گزرے
سائکلیں ٹکرا جاتی ہیں اکثر موٹر سے

اندھیارے میں ہنستے روتے کالے گیت سنے
جو سورج کے آگے آئے وہ آخر چمکے

دن کے ورق پر انساں کیا تھے آڑے ترچھے لفظ
رات ہوئی تو دیکھ رہا ہوں کاغذ پر نقطے

میں بکھرے لمحے کا موتی صدیوں سے مربوط
میرے جسم سے ہو کر گزرے برسوں کے دھاگے

ماجدؔ کی دو غزلیں بھی بھاری ہیں دو سو پر
ساری غزلوں کو اب کوئی چھاپے نا چھاپے