EN हिंदी
تاثور شیاری | شیح شیری

تاثور

33 شیر

دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے
یاد آتے ہو تم خود ہی ہم یاد نہیں کرتے

فنا نظامی کانپوری




ہم ہیں اس کے خیال کی تصویر
جس کی تصویر ہے خیال اپنا

فانی بدایونی




میں اک تھکا ہوا انسان اور کیا کرتا
طرح طرح کے تصور خدا سے باندھ لیے

فاضل جمیلی




میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب
یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو

غلام بھیک نیرنگ




نہ ہوگا کوئی مجھ سا محو تصور
جسے دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں تو ہے

گویا فقیر محمد




اک تری یاد سے اک تیرے تصور سے ہمیں
آ گئے یاد کئی نام حسیناؤں کے

حبیب جالب




تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک
قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا

حفیظ جالندھری