EN हिंदी
مشہور شیاری | شیح شیری

مشہور

248 شیر

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفی زیدی




یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

مظفر رزمی




وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں
اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

مضطر خیرآبادی




اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر
تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

o lord! There are times when such is my raptured state
even though I am with you, and yet for you I wait

نریش کمار شاد




ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ
اداسی بال کھولے سو رہی ہے

ناصر کاظمی




کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

the river's raging is advised by the tranquil sea
the greater power you possess, the quieter you be

ناطقؔ لکھنوی




گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

the mosques too far so for a while
some weeping child, let us make smile

ندا فاضلی