EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

جب ہوا گرم کلام مختصر مہکا دیا
عطر کھینچا یار کے لب نے گل تقریر کا

ارشد علی خان قلق




جمے کیا پاؤں میرے خانۂ دل میں قناعت کا
جگر میں چٹکیاں لیتا ہے ناخن دست حاجت کا

ارشد علی خان قلق




کعبے سے کھینچ لایا ہم کو صنم کدے میں
بن کر کمند الفت زنار برہمن کا

ارشد علی خان قلق




کریں گے ہم سے وہ کیوں کر نباہ دیکھتے ہیں
ہم ان کی تھوڑے دنوں اور چاہ دیکھتے ہیں

ارشد علی خان قلق




کرو تم مجھ سے باتیں اور میں باتیں کروں تم سے
کلیم اللہ ہو جاؤں میں اعجاز تکلم سے

ارشد علی خان قلق




خفا ہو گالیاں دو چاہے آنے دو نہ آنے دو
میں بوسے لوں گا سوتے میں مجھے لپکا ہے چوری کا

ارشد علی خان قلق




خریداریٔ جنس حسن پر رغبت دلاتا ہے
بنا ہے شوق دل دلال بازار محبت کا

ارشد علی خان قلق