جب ہوا گرم کلام مختصر مہکا دیا
عطر کھینچا یار کے لب نے گل تقریر کا
ارشد علی خان قلق
جمے کیا پاؤں میرے خانۂ دل میں قناعت کا
جگر میں چٹکیاں لیتا ہے ناخن دست حاجت کا
ارشد علی خان قلق
کعبے سے کھینچ لایا ہم کو صنم کدے میں
بن کر کمند الفت زنار برہمن کا
ارشد علی خان قلق
کریں گے ہم سے وہ کیوں کر نباہ دیکھتے ہیں
ہم ان کی تھوڑے دنوں اور چاہ دیکھتے ہیں
ارشد علی خان قلق
کرو تم مجھ سے باتیں اور میں باتیں کروں تم سے
کلیم اللہ ہو جاؤں میں اعجاز تکلم سے
ارشد علی خان قلق
خفا ہو گالیاں دو چاہے آنے دو نہ آنے دو
میں بوسے لوں گا سوتے میں مجھے لپکا ہے چوری کا
ارشد علی خان قلق
خریداریٔ جنس حسن پر رغبت دلاتا ہے
بنا ہے شوق دل دلال بازار محبت کا
ارشد علی خان قلق

