EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

زمیں کے گرد بھی پانی زمیں کی تہہ میں بھی
یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو

منیر نیازی




زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

منیر نیازی




زندہ لوگوں کی بود و باش میں ہیں
مردہ لوگوں کی عادتیں باقی

منیر نیازی




زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

منیر نیازی




خوف ہر گھر سے جھانکتا ہوگا
شہر اک دشت بے صدا ہوگا

منیر سیفی




کوئی دو منٹ ہل گئی تھی زمیں
جھکا خاک پر سر مناروں کا تھا

منیر سیفی




سیفیؔ میرے اجلے اجلے کوٹ پر
مل گیا کالک دسمبر دیکھ لے

منیر سیفی