EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

اوسوں گئی ہے پیاس کہیں دیدۂ نمیں
بجھتا ہے آنسوؤں سے کہاں دل پھنکا ہوا

مرزا اظفری




قسم مے کی مجھ بن ہے میرے لہو کی
جو ہم بن پیو تو ہمارا لہو ہے

مرزا اظفری




رفو جیب مجنوں ہوا کب اے ناصح
تو مر جائے گا اس کے سیتے ہی سیتے

مرزا اظفری




شتابی اپنے دیوانے کو کر بند
مسلسل زلف سے کر یا نظر بند

مرزا اظفری




سونی گئی میں ہوئی یار سے مڈبھیڑ آج
پوچھو کوئی کس لئے منہ پہ کر اوجھل گیا

مرزا اظفری




تاک لاگی تری دختر سے ہماری اے تاک
آج شب جی میں ہے گھر تیرے یہ داماد رہے

مرزا اظفری




تجھ بن اور ہم کو سوجھتا ہی نہیں
اور تو ہم کو بوجھتا ہی نہیں

مرزا اظفری