EN हिंदी
نہیں معتقد جو ترے دید کا | شیح شیری
nahin motaqid jo tere did ka

غزل

نہیں معتقد جو ترے دید کا

جوشش عظیم آبادی

;

نہیں معتقد جو ترے دید کا
میں دیوانہ ہوں اس کی فہمید کا

تعلق کسی سے نہیں غیر حق
یہ عالم ہوا اپنی تجرید کا

خیال دو عالم ہوا دل سے دور
یہاں وقر کیا جام جمشید کا

ہم آغوش وہ مجھ سے ہو یا نہ ہو
دوانا ہوں میں دید وا دید کا

یہاں نا مرادی ہے عین مراد
نہ ہو بارور نخل امید کا

یہ کوچے میں لیلہ کے مجنوں نہ ہو
ارم میں ہے گویا شجر بید کا

ترا شعر ؔجوشش تجھے ہے پسند
تو محتاج ہے کس کی تائید کا