EN हिंदी
2 لائنیں شیری شیاری | شیح شیری

2 لائنیں شیری

22761 شیر

ہم تو رات کا مطلب سمجھیں خواب، ستارے، چاند، چراغ
آگے کا احوال وہ جانے جس نے رات گزاری ہو

عرفانؔ صدیقی




ہم تو صحرا ہوئے جاتے تھے کہ اس نے آ کر
شہر آباد کیا نہر صبا جاری کی

عرفانؔ صدیقی




ہمارے دل کو اک آزار ہے ایسا نہیں لگتا
کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں

عرفانؔ صدیقی




ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے

عرفانؔ صدیقی




حریف تیغ ستم گر تو کر دیا ہے تجھے
اب اور مجھ سے تو کیا چاہتا ہے سر میرے

عرفانؔ صدیقی




ہوائے کوفۂ نا مہرباں کو حیرت ہے
کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں

عرفانؔ صدیقی




ہوشیاری دل نادان بہت کرتا ہے
رنج کم سہتا ہے اعلان بہت کرتا ہے

عرفانؔ صدیقی