EN हिंदी
تو ہے معنی پردۂ الفاظ سے باہر تو آ | شیح شیری
tu hai mani parda-e-alfaz se bahar to aa

غزل

تو ہے معنی پردۂ الفاظ سے باہر تو آ

فضا ابن فیضی

;

تو ہے معنی پردۂ الفاظ سے باہر تو آ
ایسے پس منظر میں کیا رہنا سر منظر تو آ

آج کے سارے حقائق واہموں کی زد میں ہیں
ڈھالنا ہے تجھ کو خوابوں سے کوئی پیکر تو آ

تو سہی اک عکس لیکن یہ حصار آئنہ
لوگ تجھ کو دیکھنا چاہیں برون در تو آ

ذائقہ زخموں کا یوں کیسے سمجھ میں آئے گا
پھینکنا ہے بند پانی میں کوئی پتھر تو آ

جسم خاکی تجھ کو شیشے کی حویلی ہی سہی
اے چراغ جاں کبھی فانوس کے باہر تو آ

اس جگہ آہنگ میں ڈھلتی ہیں دل کی دھڑکنیں
آ مرے گہوارۂ احساس کے اندر تو آ

بارہا جی میں یہ آئی عمر رفتہ سے کہوں
شام ہونے کو ہے اے بھولے مسافر گھر تو آ