EN हिंदी
شہزاد احمد شیاری | شیح شیری

شہزاد احمد شیر

192 شیر

واقعہ یہ ہے کہ رستہ اور ویراں ہو گیا
پیڑ تو اپنی طرف سے پھول برساتے رہے

شہزاد احمد




وہ مجھے پیار سے دیکھے بھی تو پھر کیا ہوگا
مجھ میں اتنی بھی سکت کب ہے کہ دھوکا کھاؤں

شہزاد احمد




وہ مری صبحوں کا تارا وہ مری راتوں کا چاند
میرے دل کی روشنی تو تھا مگر میرا نہ تھا

شہزاد احمد




وہ کوئی اور ہے جس نے تجھے چاہا ہوگا
شہر میں لوگ بہت سے مری صورت کے بھی ہیں

شہزاد احمد




وہ خوش نصیب تھے جنہیں اپنی خبر نہ تھی
یاں جب بھی آنکھ کھولیے اخبار دیکھیے

شہزاد احمد




وہ کون ہے اسے سورج کہوں کہ رنگ کہوں
کروں گا ذکر تو خوشبو زباں سے آئے گی

شہزاد احمد




ویران تو نہیں شب تاریک کی فضا
ہر سو ہوائے بادہ سے کچھ روشنی تو ہے

شہزاد احمد




عمر بھر سنتا رہوں اپنی صدا کی بازگشت
یا تری آواز بھی آئے گی میرے کان میں

شہزاد احمد




عمر جتنی بھی کٹی اس کے بھروسے پہ کٹی
اور اب سوچتا ہوں اس کا بھروسہ کیا تھا

شہزاد احمد