EN हिंदी
صدا انبالوی شیاری | شیح شیری

صدا انبالوی شیر

22 شیر

نہ ذکر گل کا کہیں ہے نہ ماہتاب کا ہے
تمام شہر میں چرچا ترے شباب کا ہے

صدا انبالوی




محبت کے مریضوں کا مداوا ہے ذرا مشکل
اترتا ہے صداؔ ان کا بخار آہستہ آہستہ

صدا انبالوی




اب کہاں دوست ملیں ساتھ نبھانے والے
سب نے سیکھے ہیں اب آداب زمانے والے

صدا انبالوی




کیوں سدا پہنے وہ تیرا ہی پسندیدہ لباس
کچھ تو موسم کے مطابق بھی سنورنا ہے اسے

صدا انبالوی




کون آئے گا بھول کر رستہ
دل کو کیوں ضد ہے گھر سجانے کی

صدا انبالوی




اک نہ اک روز رفاقت میں بدل جائے گی
دشمنی کو بھی سلیقے سے نبھاتے جاؤ

صدا انبالوی




ہمیں نہ راس زمانے کی محفلیں آئی
چلو کہ چھوڑ کے اب اس جہاں کو چلتے ہیں

صدا انبالوی




دل کو سمجھا لیں ابھی سے تو مناسب ہوگا
اک نہ اک روز تو وعدے سے مکرنا ہے اسے

صدا انبالوی




دل جلاؤ یا دیئے آنکھوں کے دروازے پر
وقت سے پہلے تو آتے نہیں آنے والے

صدا انبالوی