EN हिंदी
صدا انبالوی شیاری | شیح شیری

صدا انبالوی شیر

22 شیر

تم ستاروں کے بھروسے پہ نہ بیٹھے رہنا
اپنی تدبیر سے تقدیر بناتے جاؤ

صدا انبالوی




محبت کے مریضوں کا مداوا ہے ذرا مشکل
اترتا ہے صداؔ ان کا بخار آہستہ آہستہ

صدا انبالوی




نہ ذکر گل کا کہیں ہے نہ ماہتاب کا ہے
تمام شہر میں چرچا ترے شباب کا ہے

صدا انبالوی




رسم دنیا تو کسی طور نبھاتے جاؤ
دل نہیں ملتے بھی تو ہاتھ ملاتے جاؤ

صدا انبالوی




صداؔ کے پاس ہے دنیا کا تجربہ واعظ
تمہاری بات میں بس فلسفہ کتاب کا ہے

صدا انبالوی




شعر میں ساتھ روانی کے معانی بھی تو بھر
اے صداؔ قید تو کوزے میں سمندر کر دے

صدا انبالوی




وقت ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا
درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رلانے والے

صدا انبالوی




وہ تو خوشبو ہے ہر اک سمت بکھرنا ہے اسے
دل کو کیوں ضد ہے کہ آغوش میں بھرنا ہے اسے

صدا انبالوی




وقت کے ساتھ صداؔ بدلے تعلق کتنے
تب گلے ملتے تھے اب ہاتھ ملایا نہ گیا

صدا انبالوی