EN हिंदी
صابر ظفر شیاری | شیح شیری

صابر ظفر شیر

47 شیر

تمہیں تو قبر کی مٹی بھی اب پکارتی ہے
یہاں کے لوگ بھی اکتائے ہیں چلے جاؤ

صابر ظفر




شاعری پھول کھلانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے تو ظفرؔ
باغ ہی کوئی لگاتا کہ جہاں کھیلتے بچے جا کر

صابر ظفر




سر شام لٹ چکا ہوں سر عام لٹ چکا ہوں
کہ ڈکیت بن چکے ہیں کئی شہر کے سپاہی

صابر ظفر




پہلے بھی خدا کو مانتا تھا
اور اب بھی خدا کو مانتا ہوں

صابر ظفر




نظر سے دور ہیں دل سے جدا نہ ہم ہیں نہ تم
گلہ کریں بھی تو کیا بے وفا نہ ہم ہیں نہ تم

صابر ظفر




نامہ بر کوئی نہیں ہے تو کسی لہر کے ہاتھ
بھیج ساحل کی طرف اپنی خبر پانی سے

صابر ظفر




نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں
کوئی چھوڑ گیا یہ شہر تو کیا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

صابر ظفر




نہ انتظار کرو ان کا اے عزا دارو
شہید جاتے ہیں جنت کو گھر نہیں آتے

صابر ظفر




مڑ کے جو آ نہیں پایا ہوگا اس کوچے میں جا کے ظفرؔ
ہم جیسا بے بس ہوگا ہم جیسا تنہا ہوگا

صابر ظفر