EN हिंदी
نظام رامپوری شیاری | شیح شیری

نظام رامپوری شیر

60 شیر

کیا کسی سے کسی کا حال کہیں
نام بھی تو لیا نہیں جاتا

نظام رامپوری




نہ بن آیا جب ان کو کوئی جواب
تو منہ پھیر کر مسکرانے لگے

نظام رامپوری




منتظر ہوں کسی کے آنے کا
کس کی آنکھوں میں آ کے خواب رہے

نظام رامپوری




میرے ملنے سے جو یوں ہاتھ اٹھا بیٹھا تو
نہیں معلوم کہ دل میں ترے کیا بیٹھ گیا

نظام رامپوری




مضمون سوجھتے ہیں ہزاروں نئے نئے
قاصد یہ خط نہیں مرے غم کی کتاب ہے

نظام رامپوری




منظور کیا ہے یہ بھی تو کھلتا نہیں سبب
ملتا تو ہے وہ ہم سے مگر کچھ رکا ہوا

نظام رامپوری




میں نہ کہتا تھا کہ بہکائیں گے تم کو دشمن
تم نے کس واسطے آنا مرے گھر چھوڑ دیا

نظام رامپوری




لپٹا کے شب وصل وہ اس شوخ کا کہنا
کچھ اور ہوس اس سے زیادہ تو نہیں ہے

نظام رامپوری




خوشبو وہ پسینے کی تری یاد نہ آ جائے
گل کیسا کبھی عطر بھی سونگھا نہ کریں گے

نظام رامپوری