ملے مراد ہماری مگر ملے بھی کہیں
خدا کرے مگر ایسا خدا نہیں کرتا
ناطق گلاوٹھی
کیا کروں اے دل مایوس ذرا یہ تو بتا
کیا کیا کرتے ہیں صدموں سے ہراساں ہو کر
ناطق گلاوٹھی
لو جنوں کی سواری آ پہنچی
میرے دامن پہ چل رہا ہے چاک
ناطق گلاوٹھی
مے کو مرے سرور سے حاصل سرور تھا
میں تھا نشہ میں چور نشہ مجھ میں چور تھا
ناطق گلاوٹھی
مجنوں سے جو نفرت ہے دیوانی ہے تو لیلیٰ
وہ خاک اڑاتا ہے لیکن نہیں دل میلا
ناطق گلاوٹھی
میرے سینہ میں نہیں ہے تو یہ سمجھو کہ نہ تھا
پوچھتے کیا ہو جو ہوتا تو یہیں دل ہوتا
ناطق گلاوٹھی
مل گئے تم ہاتھ اٹھا کر مجھ کو سب کچھ مل گیا
آج تو گھر لوٹ لائی ہے دعا تاثیر کی
ناطق گلاوٹھی
نظر آتا نہیں اب گھر میں وہ بھی اف رے تنہائی
اک آئینہ میں پہلے آدمی تھا میری صورت کا
ناطق گلاوٹھی
ناز ادھر دل کو اڑا لینے کی گھاتوں میں رہا
میں ادھر چشم سخن گو تری باتوں میں رہا
ناطق گلاوٹھی

