تصور میں ترا در اپنے سر تک کھینچ لیتا ہوں
ستم گر میں نہیں چلتا تری دیوار چلتی ہے
مضطر خیرآبادی
تمہاری جلوہ گاہ ناز میں اندھیر ہی کب تھا
یہ موسیٰ دوڑ کر کس کو دکھانے شمع طور آئے
مضطر خیرآبادی
تم کیوں شب جدائی پردے میں چھپ گئے ہو
قسمت کے اور تارے سب آسمان پر ہیں
مضطر خیرآبادی
تم اگر چاہو تو مٹی سے ابھی پیدا ہوں پھول
میں اگر مانگوں تو دریا بھی نہ دے پانی مجھے
مضطر خیرآبادی
ٹھہرنا دل میں کچھ بہتر نہ جانا
بھرے گھر کو انہوں نے گھر نہ جانا
مضطر خیرآبادی
تیری الجھی ہوئی باتوں سے مرا دل الجھا
تیرے بکھرے ہوئے بالوں نے پریشان کیا
مضطر خیرآبادی
تیری رحمت کا نام سن سن کر
مبتلا ہو گیا گناہوں میں
مضطر خیرآبادی
تیرے موئے مژہ کھٹکتے ہیں
دل کے چھالوں میں نوک خار کہاں
مضطر خیرآبادی
تیرے گھر آئیں تو ایمان کو کس پر چھوڑیں
ہم تو کعبے ہی میں اے دشمن دیں اچھے ہیں
مضطر خیرآبادی

