تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں
مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا
مضطر خیرآبادی
یہی صورت وہاں تھی بے ضرورت بت کدہ چھوڑا
خدا کے گھر میں رکھا کیا ہے ناحق اتنی دور آئے
مضطر خیرآبادی
یہاں سے جب گئی تھی تب اثر پر خار کھائے تھی
وہاں سے پھول برساتی ہوئی پلٹی دعا میری
مضطر خیرآبادی
یاد کرنا ہی ہم کو یاد رہا
بھول جانا بھی تم نہیں بھولے
مضطر خیرآبادی
وہ شاید ہم سے اب ترک تعلق کرنے والے ہیں
ہمارے دل پہ کچھ افسردگی سی چھائی جاتی ہے
مضطر خیرآبادی
وہ قدرت کے نمونے کیا ہوئے جو اس میں پہلے تھے
میں کعبہ کیا کروں مجھ سے یہ گھر دیکھا نہیں جاتا
مضطر خیرآبادی
وہ پہلی سب وفائیں کیا ہوئیں اب یہ جفا کیسی
وہ پہلی سب ادائیں کیا ہوئیں اب یہ ادا کیوں ہے
مضطر خیرآبادی
وہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیند
نصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے
مضطر خیرآبادی
وہ مذاق عشق ہی کیا کہ جو ایک ہی طرف ہو
مری جاں مزا تو جب ہے کہ تجھے بھی کل نہ آئے
مضطر خیرآبادی

