نگاہ یار مل جاتی تو ہم شاگرد ہو جاتے
ذرا یہ سیکھ لیتے دل کے لے لینے کا ڈھب کیا ہے
مضطر خیرآبادی
تصور خانہ آبادی کرے گا
ترے گھر میں رہوں گا میرے گھر تو
مضطر خیرآبادی
طریق یاد ہے پہلے سے دل لگانے کا
اسی کا میں بھی ہوں مجنوں تھا جس گھرانے کا
مضطر خیرآبادی
طریق یاد ہے پہلے سے دل لگانے کا
اسی کا میں بھی ہوں مجنوں تھا جس گھرانے کا
مضطر خیرآبادی
تمنا اک طرح کی جان ہے جو مرتے دم نکلے
جدائی اک طرح کی موت ہے جو جیتے جی آئے
مضطر خیرآبادی
تڑپ ہی تڑپ رہ گئی صرف باقی
یہ کیا لے لیا میرے پہلو سے تو نے
مضطر خیرآبادی
صورت تو ایک ہی تھی دو گھر ہوئے تو کیا ہے
دیر و حرم کی بابت جھگڑے فضول ڈالے
مضطر خیرآبادی
سنو گے حال جو میرا تو داد کیا دو گے
یہی کہو گے کہ جھوٹا ہے تو زمانے کا
مضطر خیرآبادی
صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں
دل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا
مضطر خیرآبادی

