خدا بھی جب نہ ہو معلوم تب جانو مٹی ہستی
فنا کا کیا مزا جب تک خدا معلوم ہوتا ہے
مضطر خیرآبادی
خوب اس دل پہ تری آنکھ نے ڈورے ڈالے
خوب کاجل نے تری آنکھ میں ڈورا کھینچا
مضطر خیرآبادی
خواہش دید پہ انکار سے آتے ہیں مزے
ایسے موقعے پہ تو پردہ بھی مزا دیتا ہے
مضطر خیرآبادی
کسی کا جلوۂ رنگیں یہ کہتا ہے انہیں پوجو
یہ اس پتھر کے بت ہیں جس پہ پستی تھی حنا میری
مضطر خیرآبادی
کسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیے
خدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے
مضطر خیرآبادی
کسی کے کم ہیں کسی کے بہت مگر زاہد
گناہ کرنے کو کیا پارسا نہیں کرتے
مضطر خیرآبادی
کسی کے کم ہیں کسی کے بہت مگر زاہد
گناہ کرنے کو کیا پارسا نہیں کرتے
مضطر خیرآبادی
کسی کے تیر کو چھاتی سے ہم لگائے رہے
تمام عمر کلیجے کے پار ہی رکھا
مضطر خیرآبادی
کسی نے نہ دیکھا ترے حسن کو
مری صورت حال دیکھی گئی
مضطر خیرآبادی

