EN हिंदी
کاشف حسین غائر شیاری | شیح شیری

کاشف حسین غائر شیر

24 شیر

نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نے
یہ روشنی بھی ستاروں میں بانٹ دی میں نے

کاشف حسین غائر




نہ ہم وحشت میں اپنے گھر سے نکلے
نہ صحرا اپنی ویرانی سے نکلا

کاشف حسین غائر




مجھ سے رستوں کا بچھڑنا نہیں دیکھا جاتا
مجھ سے ملنے وہ کسی موڑ پہ آیا نہ کرے

کاشف حسین غائر




دھوپ سائے کی طرح پھیل گئی
ان درختوں کی دعا لینے سے

کاشف حسین غائر




میرے اندر کا شور ہے مجھ میں
ورنہ باہر تو خامشی ہے یہاں

کاشف حسین غائر




موت کا کیا کام جب اس شہر میں
زندگی جیسی بلا موجود ہے

کاشف حسین غائر




کیا کہیں اور دل کے بارے میں
ہم ملازم ہیں اس ادارے میں

کاشف حسین غائر




کیا چاہتی ہے ہم سے ہماری یہ زندگی
کیا قرض ہے جو ہم سے ادا ہو نہیں رہا

کاشف حسین غائر




کچھ دیر بیٹھ جائیے دیوار کے قریب
کیا کہہ رہا ہے سایۂ دیوار جانیے

کاشف حسین غائر