EN हिंदी
جوشؔ ملسیانی شیاری | شیح شیری

جوشؔ ملسیانی شیر

20 شیر

مقبول ہوں نہ ہوں یہ مقدر کی بات ہے
سجدے کسی کے در پہ کیے جا رہا ہوں میں

whether or not accepted, it is up to fate
at her doorstep on and on, I myself prostrate

جوشؔ ملسیانی




اعمال کی پرسش نہ کر اے داور محشر
مجبور تو مختار کبھی ہو نہیں سکتا

جوشؔ ملسیانی




جس کو تم بھول گئے یاد کرے کون اس کو
جس کو تم یاد ہو وہ اور کسے یاد کرے

him whom you have forgotten who else will recall
he who thinks of you will think of no one else at all

جوشؔ ملسیانی




جھکتی ہے نگاہ اس کی مجھ سے مل کر
دیوار سے دھوپ اتر رہی ہے گویا

جوشؔ ملسیانی




عشق اس درد کا نہیں قائل
جو مصیبت کی انتہا نہ ہوا

جوشؔ ملسیانی




اس وہم سے کہ نیند میں آئے نہ کچھ خلل
احباب زیر خاک سلا کر چلے گئے

جوشؔ ملسیانی




گلہ نا مہربانی کا تو سب سے سن لیا تم نے
تمہاری مہربانی کی شکایت ہم بھی رکھتے ہیں

جوشؔ ملسیانی




ڈوب جاتے ہیں امیدوں کے سفینے اس میں
میں نہ مانوں گا کہ آنسو ہے ذرا سا پانی

when hope and aspirations drown in them so easily
that tears are just some water, how can I agree

جوشؔ ملسیانی




اور ہوتے ہیں جو محفل میں خموش آتے ہیں
آندھیاں آتی ہیں جب حضرت جوشؔ آتے ہیں

جوشؔ ملسیانی