مجھے یہ زندگی نقصان کا سودا نہیں لگتی
میں آنے والی دنیا کو بھی تخمینے میں رکھتا ہوں
عرفانؔ صدیقی
رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغ
کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
عرفانؔ صدیقی
رفاقتوں کو ذرا سوچنے کا موقع دو
کہ اس کے بعد گھنے جنگلوں کا رستہ ہے
عرفانؔ صدیقی
ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر
عرفانؔ صدیقی
روح کو روح سے ملنے نہیں دیتا ہے بدن
خیر یہ بیچ کی دیوار گرا چاہتی ہے
عرفانؔ صدیقی
روپ کی دھوپ کہاں جاتی ہے معلوم نہیں
شام کس طرح اتر آتی ہے رخساروں پر
عرفانؔ صدیقی
سب کو نشانہ کرتے کرتے
خود کو مار گرایا ہم نے
عرفانؔ صدیقی
سمندر ادا فہم تھا رک گیا
کہ ہم پاؤں پانی پہ دھرنے کو تھے
عرفانؔ صدیقی
سر اگر سر ہے تو نیزوں سے شکایت کیسی
دل اگر دل ہے تو دریا سے بڑا ہونا ہے
عرفانؔ صدیقی

